پاکستان میں ذہنی مریض کے لیے جائیداد کے قوانین

2,192

 

یہ واقعہ ایک خاندان کا ہے، جہاں وراثت اور جائیداد کے معاملات میں ذہنی مریض کے حقوق کو موضوع بنایا گیا۔ یہ پاکستان کے قوانین اور اسلامی اصولوں کی روشنی میں ذہنی مریضوں کے وراثتی حقوق کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔

ایک گاؤں میں رہنے والے علی بخش کے انتقال کے بعد ان کی جائیداد کا مسئلہ اٹھا۔ علی بخش کے چار بچے تھے: دو بیٹے اور دو بیٹیاں۔ بڑا بیٹا احمد ایک ذہنی بیماری میں مبتلا تھا اور گاؤں کے لوگ اکثر یہ کہتے تھے کہ احمد کو جائیداد میں حصہ نہیں ملنا چاہیے کیونکہ وہ اپنی جائیداد کا صحیح استعمال نہیں کر سکتا۔ لیکن علی بخش کے چھوٹے بیٹے، عمر، نے اس بات پر زور دیا کہ احمد کو بھی اپنے والد کی جائیداد میں برابر کا حصہ ملنا چاہیے۔

وراثت میں ذہنی مریض کا حصہ

عمر نے اپنے گاؤں کے بڑوں کو سمجھانے کی کوشش کی کہ اسلامی شریعت اور پاکستان کے قوانین کے مطابق احمد کو بھی وراثت کا حق حاصل ہے۔ اس نے کہا:

"اسلامی شریعت کہتی ہے کہ ذہنی بیماری کسی بھی شخص کو اس کے وراثتی حقوق سے محروم نہیں کر سکتی۔ احمد بھی اپنے والد کی جائیداد میں اتنا ہی حق رکھتا ہے جتنا ہم باقی بہن بھائی رکھتے ہیں۔"

یہ سن کر گاؤں کے کچھ لوگ چونک گئے کیونکہ ان کے خیال میں ذہنی مریض کو جائیداد میں حصہ دینا غیر ضروری تھا۔

قانونی پہلو

عمر نے مزید بتایا کہ پاکستان میں ذہنی مریضوں کے حقوق کو تحفظ فراہم کرنے والے قوانین موجود ہیں:

مسلم فیملی لآز آرڈیننس 1961: یہ قانون تمام وارثوں کے لیے وراثتی حقوق کا تعین کرتا ہے، چاہے وہ ذہنی مریض ہوں یا نہ ہوں۔

مینٹل ہیلتھ آرڈیننس 2001: اس کے تحت ذہنی مریض کی جائیداد کی حفاظت کے لیے عدالت ایک سرپرست مقرر کر سکتی ہے۔

گارڈین شپ اینڈ وارڈز ایکٹ 1890: اس قانون کے تحت ذہنی مریض کی جائیداد کی دیکھ بھال کے لیے ایک گارڈین مقرر کیا جاتا ہے۔

سرپرست کا کردار

گاؤں کی پنچایت نے مشورہ دیا کہ عدالت میں درخواست دے کر احمد کے لیے ایک سرپرست مقرر کیا جائے جواس کی جائیداد کی حفاظت کر سکے۔ عمر نے عدالت میں درخواست دی، اور عدالت نے احمد کے لیے ایک سرپرست مقرر کیا۔ اس سرپرست کی ذمہ داری تھی کہ:

احمد کی جائیداد کی حفاظت کرے۔

احمد کی ضروریات کے مطابق مالی وسائل کا صحیح استعمال کرے۔

جائیداد کو غیر قانونی طریقے سے فروخت ہونے سے بچائے۔

Property laws for the mentally ill in Pakistan 2
 

اسلامی اصولوں کی رہنمائی

عمر نے گاؤں کے لوگوں کو یہ بھی یاد دلایا کہ اسلام ذہنی مریضوں کے حقوق کا خاص خیال رکھتا ہے۔ اس نے کہا:

"حدیث اور فقہ کے مطابق، ذہنی مریض کا مال اس کے لیے امانت ہے۔ یہ ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ اس کے حقوق کا تحفظ کریں۔"

آخرکار، احمد کو اس کے والد کی جائیداد میں اس کا حصہ ملا، اور عدالت کے مقرر کردہ سرپرست نے اس کی جائیداد کی ذمہ داری لی۔ گاؤں کے لوگوں نے اس معاملے سے بہت کچھ سیکھا کہ ذہنی مریضوں کے حقوق کا تحفظ کرنا نہ صرف قانونی بلکہ اخلاقی اور مذہبی فریضہ بھی ہے۔

سبق

یہ واقعہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ پاکستان میں ذہنی مریضوں کے جائیداد کے قوانین شریعت اور ملکی قوانین کے تحت ان کے حقوق کا تحفظ کرتے ہیں۔ اگر کہیں ان کے حقوق کی خلاف ورزی ہو رہی ہو، تو قانونی کارروائی کے ذریعے ان کے حقوق کی بحالی ممکن ہے۔


 


Share this post:

Related posts:
Real Estate Still Remains the Strongest Investment in 2026

One of the most secure methods to build a steady income has always been through real estate. Property is still a good investment in 2026, even though the economy is changing and there are new investment trends. This is because...

Residential vs Commercial Hotspots in Faisalabad

New housing schemes, commercial ventures, and improved road links around the city have all contributed to changes in Faisalabad's real estate market. Whether they are searching for a house, rental income, or a property that can increase in value over...

Faisalabad’s Shop Market Is Transforming, and Many People Have Noticed

A few years back, if someone wanted to buy a shop in Faisalabad, the answer was usually simple: look in the old markets. Those areas already had customers, businesses, and a name built over decades. But now things are different.

Residential Plots Near Upcoming Emporium Mall Faisalabad

Finding the right place for a home or investment depends on location, surroundings, and access to facilities. The area near the upcoming Emporium Mall in Faisalabad, behind Rafhan Mill and along Ayesha Masjid Road, has become a point of interest...