پاکستان میں ذہنی مریض کے لیے جائیداد کے قوانین

2,312

 

یہ واقعہ ایک خاندان کا ہے، جہاں وراثت اور جائیداد کے معاملات میں ذہنی مریض کے حقوق کو موضوع بنایا گیا۔ یہ پاکستان کے قوانین اور اسلامی اصولوں کی روشنی میں ذہنی مریضوں کے وراثتی حقوق کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔

ایک گاؤں میں رہنے والے علی بخش کے انتقال کے بعد ان کی جائیداد کا مسئلہ اٹھا۔ علی بخش کے چار بچے تھے: دو بیٹے اور دو بیٹیاں۔ بڑا بیٹا احمد ایک ذہنی بیماری میں مبتلا تھا اور گاؤں کے لوگ اکثر یہ کہتے تھے کہ احمد کو جائیداد میں حصہ نہیں ملنا چاہیے کیونکہ وہ اپنی جائیداد کا صحیح استعمال نہیں کر سکتا۔ لیکن علی بخش کے چھوٹے بیٹے، عمر، نے اس بات پر زور دیا کہ احمد کو بھی اپنے والد کی جائیداد میں برابر کا حصہ ملنا چاہیے۔

وراثت میں ذہنی مریض کا حصہ

عمر نے اپنے گاؤں کے بڑوں کو سمجھانے کی کوشش کی کہ اسلامی شریعت اور پاکستان کے قوانین کے مطابق احمد کو بھی وراثت کا حق حاصل ہے۔ اس نے کہا:

"اسلامی شریعت کہتی ہے کہ ذہنی بیماری کسی بھی شخص کو اس کے وراثتی حقوق سے محروم نہیں کر سکتی۔ احمد بھی اپنے والد کی جائیداد میں اتنا ہی حق رکھتا ہے جتنا ہم باقی بہن بھائی رکھتے ہیں۔"

یہ سن کر گاؤں کے کچھ لوگ چونک گئے کیونکہ ان کے خیال میں ذہنی مریض کو جائیداد میں حصہ دینا غیر ضروری تھا۔

قانونی پہلو

عمر نے مزید بتایا کہ پاکستان میں ذہنی مریضوں کے حقوق کو تحفظ فراہم کرنے والے قوانین موجود ہیں:

مسلم فیملی لآز آرڈیننس 1961: یہ قانون تمام وارثوں کے لیے وراثتی حقوق کا تعین کرتا ہے، چاہے وہ ذہنی مریض ہوں یا نہ ہوں۔

مینٹل ہیلتھ آرڈیننس 2001: اس کے تحت ذہنی مریض کی جائیداد کی حفاظت کے لیے عدالت ایک سرپرست مقرر کر سکتی ہے۔

گارڈین شپ اینڈ وارڈز ایکٹ 1890: اس قانون کے تحت ذہنی مریض کی جائیداد کی دیکھ بھال کے لیے ایک گارڈین مقرر کیا جاتا ہے۔

سرپرست کا کردار

گاؤں کی پنچایت نے مشورہ دیا کہ عدالت میں درخواست دے کر احمد کے لیے ایک سرپرست مقرر کیا جائے جواس کی جائیداد کی حفاظت کر سکے۔ عمر نے عدالت میں درخواست دی، اور عدالت نے احمد کے لیے ایک سرپرست مقرر کیا۔ اس سرپرست کی ذمہ داری تھی کہ:

احمد کی جائیداد کی حفاظت کرے۔

احمد کی ضروریات کے مطابق مالی وسائل کا صحیح استعمال کرے۔

جائیداد کو غیر قانونی طریقے سے فروخت ہونے سے بچائے۔

Property laws for the mentally ill in Pakistan 2
 

اسلامی اصولوں کی رہنمائی

عمر نے گاؤں کے لوگوں کو یہ بھی یاد دلایا کہ اسلام ذہنی مریضوں کے حقوق کا خاص خیال رکھتا ہے۔ اس نے کہا:

"حدیث اور فقہ کے مطابق، ذہنی مریض کا مال اس کے لیے امانت ہے۔ یہ ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ اس کے حقوق کا تحفظ کریں۔"

آخرکار، احمد کو اس کے والد کی جائیداد میں اس کا حصہ ملا، اور عدالت کے مقرر کردہ سرپرست نے اس کی جائیداد کی ذمہ داری لی۔ گاؤں کے لوگوں نے اس معاملے سے بہت کچھ سیکھا کہ ذہنی مریضوں کے حقوق کا تحفظ کرنا نہ صرف قانونی بلکہ اخلاقی اور مذہبی فریضہ بھی ہے۔

سبق

یہ واقعہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ پاکستان میں ذہنی مریضوں کے جائیداد کے قوانین شریعت اور ملکی قوانین کے تحت ان کے حقوق کا تحفظ کرتے ہیں۔ اگر کہیں ان کے حقوق کی خلاف ورزی ہو رہی ہو، تو قانونی کارروائی کے ذریعے ان کے حقوق کی بحالی ممکن ہے۔


 


Share this post:

Related posts:
Land or Plot? A Faisalabad Buyer's Guide to Smarter Property Decisions

If you ask 10 different people in Faisalabad, what the difference between land and plot is, and you will get 10 different responses. Most people use these words interchangeably, but this is incorrect, as they refer to separate things.

Which Property Type Gives the Highest ROI?

Real estate builds wealth faster than most other investments in Pakistan. But different properties bring different returns. When investing, knowing what form of property will give you the highest rate of return will help you make smarter investment decisions.

Buying Property in Pakistan From Abroad? Here's What You Need to Know

Are you thinking about buying a plot, house, or shop back home while you are living overseas? You are not alone; every year, many Overseas Pakistanis turn to the property market back home to invest their savings, build a future...

Women Guide to Property Buying in Pakistan

A few years ago, it was rare to see a woman walk into a property office. And she also ask questions herself, negotiate a price, or sign the final papers under her own name. That's changing fast. At Faisalabad Realtors,...