رجسٹری کے عمل میں تبدیلی پٹواری نے زمین ماپنے کی بجائے سمارٹ فون پکڑ لیا

1,686

ریاست ماں جیسی ہوتی ہے۔ لیکن پاکستانی حکومت اپنی ٰٰٰعوام کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک کر رہی ہے۔
 

رجسٹری کے ٹیکس کا قانون: “گھر کا ٹیکس، پلاٹ کا ٹیکس، اب تصویریں لینے کا ٹیکس بھی شامل ہوگیا !”
 

پاکستان میں گھر یا زمین کی رجسٹری کے لیے ایک نیا قانون متعارف کرایا گیا ہے جس میں پٹواری کو اس مقام پر جانا ہوگا جہاں گھر یا زمین کی رجسٹری کرنی ہو، اور وهاں جاکرخود ذاتی طور پربچنے والے کی تصویر لوکیشن کے ساتھ لینی ہوگی، تاکہ رجسٹری کا عمل زیادہ موثر اور شفاف بنایا جاسکے۔ لیکن اس کی وجہ سے پٹواری  صاحب نے تو 'کراؤن پرنس' کا رول سنبھال لیاہے۔

ہم سب جانتے ہیں کہ پاکستان میں ٹیکس کی شرح بہت زیادہ ہے۔ عام آدمی سے لے کر کاروباری طبقے تک، ہر کوئی اس بوجھ کو محسوس کرتا ہے۔ کہیں پراپرٹی پر ٹیکس، تو کہیں روزمرہ کی اشیاء پر غیر ضروری ٹیکس، یہ سب عوام کے لیے مزید مشکلات پیدا کرتے ہیں۔

حکومت کی طرف سے لگاۓ جانے والےاضافی ٹیکس کی وجہ سےکوئی بڑا گھر یا عمارت رجسٹر کروائی جائے تو بہت سے لوگ عموماً خالی پلاٹ کی رجسٹری کروا لیتے ہیں تاکہ ٹیکس کا بوجھ کم ہو جائے۔  بہرحال، یہ طریقہ کسی حد تک ناجائز تو ہو سکتا ہے مگر کئی لوگ مجبوراً اس کا سہارا لیتے ہیں تاکہ اضافی ٹیکس سے بچ سکیں۔  

اس نئے قانون کا مقصد یہ تھا کے لوگ گھریا عمارت کی رجسٹری کرواتے وقت خالی پلاٹ  کی جگہ گھر کا ٹیکس دیں تاکے نظام میں شفافیت لائی جاسکے۔ لیکن اس قانون کی وجہ سے پٹواری اور عوام دونوں کے لیے مشکلات پیدا ہورہی ہے۔ تصویر کے ساتھ لوکیشن کی تصدیق ضروری کر دی گئی ہے تاکہ اصل صورتحال کو چھپایا نہ جا سکے۔ لیکن یہ اقدام ٹیکس چوری روکنے کے لیے کیا گیا ہے، مگرپٹواری ایک دن میں اتنی زیادہ مقامات پر جا نہیں سکتا جس کی وجہ سے رجسٹری کا عمل دیر کا شکار ہوسکتا ہے اور عوام کے لیے مشکلات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

عوام کو اب گھر کی رجسٹری کرواتے وقت پلاٹ کی بجائے گھر کا ٹیکس دینا پڑے گا، اور پٹواری کی نئی ملازمت تصویر کمیشن کا خیال کرنا پڑے گا۔ لیکن اس نظام سے نظامی شفافیت اور معیاری قانون نفاذ ہوسکے گا، جو ملکی ترقی کے لیے مددگار ثابت ہوسکے گا۔

2رجسٹری کے عمل میں تبدیلی پٹواری نے زمین ماپنے کی بجائے سمارٹ فون پکڑ لیا 1
 

لوگ گھر خریدتے رہیں،یہاں پٹواری تصویر لیتا رہے اور ہم صرف ٹیکس دیتے رہیں:

دنیا کے اکثر ممالک میں جب کوئی شخص اپنا گھر خریدتا ہے تو اس پر اتنے زیادہ رسمی اور دستاویزی مراحل نہیں ہوتے، اور زیادہ تر معاملات آسانی سے مکمل ہو جاتے ہیں۔ مگر پاکستان میں یہ معاملہ مختلف ہے۔ یہاں ہر قدم پر بہت ساری تفصیلات، اور مختلف طریقوں سے دستاویزات کی ضرورت ہوتی ہے، جو لوگوں کے لیے زیادہ پریشانی اور وقت کا ضیاع بنتا ہے۔

یہاں تک کہ ان معاملات میں جس کا تعلق گھر خریدنے سے ہوتا ہے، بہت مشکل بنا دیا جاتا ہے کیونکہ ہر چیز پر اضافی ٹیکس اور فیسز ادا کرنی پڑتی ہیں۔ اس طرح کا نظام عوام کے لیے پریشانی پیدا کرتا ہے اور مالی طور پر بوجھ بن جاتا ہے۔ اس طرح کے پیچیدہ نظام کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے تاکہ لوگوں کو آسانی اور سہولت میسر آئے۔


 


Share this post:

Related posts:
Real Estate Still Remains the Strongest Investment in 2026

One of the most secure methods to build a steady income has always been through real estate. Property is still a good investment in 2026, even though the economy is changing and there are new investment trends. This is because...

Residential vs Commercial Hotspots in Faisalabad

New housing schemes, commercial ventures, and improved road links around the city have all contributed to changes in Faisalabad's real estate market. Whether they are searching for a house, rental income, or a property that can increase in value over...

Faisalabad’s Shop Market Is Transforming, and Many People Have Noticed

A few years back, if someone wanted to buy a shop in Faisalabad, the answer was usually simple: look in the old markets. Those areas already had customers, businesses, and a name built over decades. But now things are different.

Residential Plots Near Upcoming Emporium Mall Faisalabad

Finding the right place for a home or investment depends on location, surroundings, and access to facilities. The area near the upcoming Emporium Mall in Faisalabad, behind Rafhan Mill and along Ayesha Masjid Road, has become a point of interest...